top of page
Search

سوچ

  • Writer: Salman Bhutta
    Salman Bhutta
  • Nov 5, 2023
  • 1 min read

لاہور کی اک مسجد میں مجھے نماز پڑھنے کی توفیق ملی. باقی تو سب ویسا ہی تھا… وہی سکوں وہی دلی تسکین وہی روح کی کاملیت. مگر اک چیز نئی تھی. یا پھر شاید میں ہی ناچیز اس سے انجام تھا.

جوتے رکھنے کے لئے خاص خانے بنائے گئے تھے جن کو تالا بھی لگانے کی سہولت موجود تھی. اب انسان ہوں میں بھی آخر، اور دنیا کی سب سے کمال چیز میرے سر میں رکھی گئی ہے.. تو اک خیال نے جنم لیااُس کمال چیز میں.

وہ یہ کہ اسی طرز عمل کو اپناتے ہوئے اگر ہم موبائل فونز بھی مسجد سے باہر ہی رکھنا شروع کردیں تو شاید بہت سے مسلمانوں کو اُن کی نمازیں منہ پرمارنے کی حاجت پیش نہ آئے.


سلمان احمد بھٹہ

١٩ جولائی ٢٠١٧

 
 
 

Recent Posts

See All
انتظار

انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد تقریباً ہر پاکستانی طالب علم کی طرح مجھے بھی کچھ اندازہ نہ تھا کہ زندگی میں کیا کرنا ہے، کس شعبے میں...

 
 
 
یاد

بہت دن بیت گئے … اُس کو دیکھے ہوے، اُن گلیوں میں گئے ہوے، اُن رستوں پر چلے ہوئے، وہ حسین مکان جس کو دیکھ دیکھ کر گزار دیا لڑکپن ہم نے، ...

 
 
 
اک تلخ حقیقت

کی تمہیں کبھی ایسا محسوس ہوا کہ تمہاری زندگی کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے. اور تم صرف کٹ پتلی کا تماشا بنے ہوئے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ...

 
 
 

Comments


  • alt.text.label.Instagram
  • alt.text.label.LinkedIn
  • alt.text.label.Facebook
  • alt.text.label.Twitter
  • alt.text.label.YouTube

©2023 Salman Ahmad Bhutta

bottom of page