یاد
- Salman Bhutta
- Nov 5, 2023
- 1 min read
بہت دن بیت گئے … اُس کو دیکھے ہوے، اُن گلیوں میں گئے ہوے، اُن رستوں پر چلے ہوئے، وہ حسین مکان جس کو دیکھ دیکھ کر گزار دیا لڑکپن ہم نے، وہ انمول درخت جس کی چھاؤ میں تھا جنت کا احساس، وہ دن و رات کی گفتگو، وہ پل پل کی خبر ہونا، وہ بات بات پے ناراض ہونا اور اگلے ہی لمحے مان جانا… کیا اُس کو بھی آتا ہو گا گمان ہمارا ؟ کیا وہ بھی چونکتا ہو گا ہمارا “ہم نام” سن کر؟
کیا کیا اور… کیا؟
سوال بہت ہیں ، جواب گُم ہیں.. سوال سوچیں یا جواب ڈھونڈیں… اسی کشمکش میں تھے بیٹھے ہم، کہ اچانک سے لب مُسکرا دئے، اور اگلے ہی لمحے آنکھ نم تھی، آنسو پونچھتے ہوئے پھر سے سوچا..
بہت دن بیت گئے… اُس کو نہیں دیکھا…
سلمان احمد
٢ دسمبر ٢٠١٧
Good Post