top of page
Search

اک تلخ حقیقت

  • Writer: Salman Bhutta
    Salman Bhutta
  • Nov 5, 2023
  • 1 min read

کی تمہیں کبھی ایسا محسوس ہوا کہ تمہاری زندگی کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے. اور تم صرف کٹ پتلی کا تماشا بنے ہوئے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ تماشائی بدلتے رہتے ہیں مگر تماشا جاری رہتا ہے.. ہوتا ہے کئی دفعہ ہوتا ہے.. اور کئی سو کے ساتھ ہوتا ہے.. مگر کیا کبھی اس بے بسی کے احساس کی وجہ جاننے کی کوشش کی؟ اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے تم کسی اور کے محتاج کیوں کر ہونے لگے؟ تم بھی اُنہیں بے شمار انسانوں میں شامل تھے جن کے سامنے نوری مخلوق نے اپنی پیشانی تک جھکا دی تھی.. تو پھر کیوں ہوتا ہے یہ؟

.

نہیں جانتے؟ تو سُنو.. جب کھی ایسا محسوس ہو تو سمجھ جانا کہ تم اُس رشتے کو کمزور کر بیٹھے ہو جس کی شدت ٧٠ مائوں کی محبت سے بھی بڑھ کر تھی.. وہی ناتا جس میں معافی کی قیمت محض اک عدد آنسو ہے.. یہ وہی رشتہ ہے جس کی خاطر اک عاشق نے اپنا محبوب تک اپنے سے جدا کر دیا تھا…اور اگر یہ رشتہ کمزور تر ہوتا جائے توانسان کی زندگی بِلا وجہ کی خوشیوں سے بھرنے لگتی ہے.. اور پھر… اس سلسلے کی انتہا تب ہوتی ہے جب گناہ، گناہ لگنا بھی ختم ہو جاتا ہے.. اور پھر شاید مجھے بتانے کی ضرورت تو نہیں ہے کہ اس صورتحال میں “تمہیں” کیا کرنا چاہیے.


*لفظ “تم” سے مراد میری خود کی ذات سب سے پہلے ہے.

 
 
 

Recent Posts

See All
انتظار

انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد تقریباً ہر پاکستانی طالب علم کی طرح مجھے بھی کچھ اندازہ نہ تھا کہ زندگی میں کیا کرنا ہے، کس شعبے میں...

 
 
 
یاد

بہت دن بیت گئے … اُس کو دیکھے ہوے، اُن گلیوں میں گئے ہوے، اُن رستوں پر چلے ہوئے، وہ حسین مکان جس کو دیکھ دیکھ کر گزار دیا لڑکپن ہم نے، ...

 
 
 
پچھتاوا

کچھ گنے چنے احساسات میں سے اک احساس ہے کہ جن کو بیان کرنا زندگی کا سب سے کٹھن کام لگنے لگتا ہے. ہاں ہوتی ہے غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے، مگر...

 
 
 

Comments


  • alt.text.label.Instagram
  • alt.text.label.LinkedIn
  • alt.text.label.Facebook
  • alt.text.label.Twitter
  • alt.text.label.YouTube

©2023 Salman Ahmad Bhutta

bottom of page