انتظار
- Salman Bhutta
- Mar 5, 2025
- 2 min read
انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد تقریباً ہر پاکستانی طالب علم کی طرح مجھے بھی کچھ اندازہ نہ تھا کہ زندگی میں کیا کرنا ہے، کس شعبے میں میری دلچسپی ہے اور کس شعبے میں تعلیم حاصل کی جائے۔ اردگرد نظر دوڑانے سے معلوم ہوا کہ کمپیوٹر کا زمانہ ہے اور زیادہ تر لوگ کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کو ہی بہتر سمجھ رہے ہیں۔ سب کا دیکھا دیکھی اور والدین کی مشاورت سے میں نے بھی پنجاب یونیورسٹی کے شعبہِ کمپیوٹر سائنس میں داخلہ لے لیا۔
مگر کچھ عرصہ بعد ہی مجھے اندازہ ہو گیا کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ حالانکہ انٹرمیڈیٹ اور اُس سے پہلے کی تعلیم میں بھی کوئی خاص جھنڈے تو نہ گاڑے تھے مگر اِتنا کُند ذہن بھی نہ تھا جنتا وہاں خود کو محسوس کر رہا تھا۔ وہ تمام تصورات ذہن میں جیسے سمانے کا نام ہی نہ لے رہے ہوں۔ اتنا تو سمھ گیا تھا کہ میرے لئے کمپیوٹر سائنس میں تعلیم حاصل کرنا بے کار رہے گا مگر کس مضمون میں حاصل کی جائے ہے یہ معلوم نہ تھا۔
تھوڑا غور و خوص کرنے کے بعد میں نے سوچا کہ چاند، ستارے ، کائنات، سورج کی گردش اور وہ قوانین جن کی بنیاد پر یہ سب نظام چل رہا ہے، اِس سب کو پڑھنا کافی اچھا لگتا تھا اور چونکہ یہ سب فزکس میں پڑھا تھا اس لئے سوچا فزکس کی جانب ہی اپنی زندگی کا رُخ موڑ دینا چاہیے۔ لیکن اک اٹھارہ- اُنیس سالہ مڈل کلاس لڑکے کے لئے اتنا بڑا فیصلہ کوئی عام بات نہ تھی۔ مگر والدین سے بات کرنے اور اپنی حالتِ زار بیان کرنے کے بعد اُنہوں نے مکمل ساتھ دیا اور بہت زیادہ مثبت کردار ادا کیا۔
چنانچہ اک دفعہ پھر سے بستہ اٹھایا اور ائیر یونیورسٹی میں فزکس پڑھنے چلا گیا۔ وہاں بنیادی فزکس سے متعلق بہت احسن انداز میں پڑھایا جا رہا تھا مگر فلکیات سے متعلق کسی کلاس، کسی مجلس میں گفتگو تک نہ ہو رہی تھی۔ ایک سمیسٹر انتطار کیا، دو سمیسٹر انتظار کیا لیکن پھر میں نے خود سے کورسرا (coursra) اور دوسرے آنلاین پلیٹ فارم کے ذریعے کورسز پڑھنے شروع کر دیے۔ اسی سفر میں ائیر ایسٹرونومیکل سوسائٹی کا قیام بھی کیا۔
بات کو مختصر کرتے ہوئے، کل یونیورسٹی آف بلونیا میں دوسرے سمیسٹر کی پہلی کلاس میں شرکت کی اور موضوع وہی تھا جس کی طلب میں کئی سال گزار دیے تھے۔ تاریک مادے (Dark Matter) کی موجودگی کے تین شواہد زیرِ بحث تھے۔ اس سے متعلق کئ جدید تحقیقات کو سمجھایا جا رہا تھا اور بصری فہم (Visual Understanding) کے لئے یوٹیوب کا بھی سہارا لیا جا رہا تھا۔
مجھے ایسے لگا جیسے یہی وہ منزل تھی جسکا اک عرصہِ دراز سے متلاشی تھا۔ یہی وہ مجلس تھی جس کو نقل کرنے کی ناکام کوششیں کرتا رہا تھا اور یہی وہ لوگ تھے جن کی ہمسائیگی کے لئے پنجاب یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی تعلیم کو خیر باد کہا تھا۔ اِس اِک لمحے کو محسوس کرنے کے لئے مجھے تقریباً آٹھ سال انتظار کرنا پڑا مگر رائگا کچھ بھی نہیں گیا۔
سلمان احمد بھٹہ
5 مارچ 2025
بلونیا، اٹلی
Comments