محبت
- Salman Bhutta
- Nov 5, 2023
- 2 min read
محبّت کا چراغ ہر نوعِ بشر میں موجود ہے، ہر انسان میں خدا تعالی نے یہ دیا روز اول سے روشن کر دیا تھا… مگر زمانے کی آندھیوں اور عصر حاضر و بعید کے تیز جھونکوں سے وہ شمع دن بدن بجھتی چلی گئی. مگر قابل غور بات یہ ہے کہ وو مشعل اتنی درخشاں تھی کہ اس قدر تیز طوفان بھی اسکی لَو کو مکمل طور پر بجھا نہ سکے۔
اک دوسرے کو دیکھتے ہوئے ،اپنے آباؤ اجداد سے سیکھتے ہوئے، زمانے سے اخذ کرتے ہوئے، ہم محبت سے اس قدر دور ہو گئے کہ اس کے حقیقی معنی تک سے نا آشنا ہو گئے، یہ بھی بھول گئے کہ ہمارا وجود تک اک داستانِ محبت کا حصہ ہے.
وہ چراغ کہ جس کا ایندھن، محض اللہ ربّ العزت اور اُسکے محبوب محمد صلہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت تھا، آج نجانے کس قسم کی فضول، ناکارہ، بے مقصد چیزوں اور ناجائز رشتوں کی محبت کا ایندھن اس میں جھونکا جا رہا ہے، وہ بچارا بھی اپنے مقام اور کئے جانے والے سلوک کو دیکھ کر مقدر کو کوستا ہو گا.
لیکن کیا کبھی سوچا کہ اس قدر غفلتوں اور بے پرواہیوں کے باوجود بھی وہ دیا مکمل طور پر بجھ کیوں نہیں جاتا، اس سب کے باوجود بھی ہم خوشحال زندگیاں بسر کر رہے ہیں، اور اُس رب کریم کی رحمتوں کا نزول ہر وقت ہوا جا رہا ہے.
یہ سب صرف اک عدد کئے ہوئے اقرا کا نتیجہ ہے، وہ اقرار کہ جس میں ہم اللہ رب العزت کو واحد خالق اور محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس کا رسول تسلیم کئے ہوئے ہیں، چاہے ہمیں وہ لمحات ذہن نشین بھی نہیں کہ جب ہمارے کان میں اذان دی گئی تھی، مگر ذات باری تعالٰی اس قدر شفیق ہے کہ ہمارے اُس ٹوٹے پھوٹے اقرا کا آج تک پاس رکھے ہوئے ہے.
چنانچہ بات کو اس سوال، اس سوچ، اس کشمکش پر ختم کرنے کی کوشش کئے جاتا ہوں کہ کیا انوار و تجلیات ہوں ہم پے اگر پوری عقل و فہم کے ساتھ اُس اقرا کو نبھانے لگ جائیں، کیا مقام ہو ہمارا کہ اگر ہم اُس دیے کو، اُسکا مطلوبہ ایندھن دینے کی محض کوشش ہی کر لیں، اپنی چند سالہ زندگی کو دنیا و مافیا کی ناپاک محبت سے آذاد کر کے حقیقی محبت کی تکمیل میں گزار دیں… کیا کیا اور کیا..!!
سلمان احمد بھٹہ ١٨ نومبر ٢٠١٨
Comments