top of page
Search

اک فلسفہ

  • Writer: Salman Bhutta
    Salman Bhutta
  • Nov 5, 2023
  • 3 min read

انسان کے خیال، اُسکی سوچ اُس کے بس میں نہیں ہوتے، سوچ کہاں سے آتی ہے اِس کا پتا ابھی تک سائنس کو بھی نہیں لگ سکا. انسانی دماغ صرف خیالات کو وصول کرتا ہے اور اِس کا کام صرف اِن خیالات پر ردّ عمل کرنا ہوتا ہے کہ کس خیال کو بُرا سمجھ کر رد کر دیا جائے اور کس کو تھام کر عمل میں لایا جائے. شاید یہی وجہ ہے کہ گناہ کی سوچ آنے پر کوئی سزا نہیں ہے، گناہ کرنے پر سزا ہے.

خیر جیسے ہر کمپیوٹر کے اندر ایک چِپ لگی ہوتی ہے جو بتاتی ہے کےاِس کمپیوٹر کی کیا خصوصیات ہیں اور پھر وہ اُنہیں خصوصیات کے مطابق ہی ہمارے اعداد و شمار پر ردّ عمل کرتا ہے، اُسی طرح انسان کے اندر بھی اُسکے خالق کی جانب سے ایک چِپ لگا کر بھیجی جاتی ہے. اِسی چِپ کے مطابق اُس کے جذبات ہوتے ہیں، اُس میں کتنا سکونت ہو گا، کتنی رحم دلی ہو گی، کتنا غرور ہوگا، کتنا غصہ ہوگا، کتنی بزدلی ہو گی، کتنی بہادری ہوگی، سب اُسی چِپ میں بھر کے انسان کو دنیا میں بھیج دیا جاتا ہے. لوگ اِس چپ کو فطرت کے نام سے جانتے ہوں گے.

ہاں معاشرے سے بھی انسان کچھ عادات سیکھتا ہے مگر میرے خیال میں یہ سب محض ٪20 ہوتا ہے اور ٪80 وہی انسان کے عادات و خصائل ہوتے ہیں جو اُس چِپ میں بھرے ہوتے ہیں. عادات کے ساتھ ساتھ کوئی بھی شخص خیالات پر ردّعمل بھی اُسی چپ کے ہی مطابق کرتا ہے. اک شخص کسی کو کھو دینے کا خیال آتے ہی رونے لگتا ہے تو کسی کو اِس سے فرق بھی نہیں پڑتا، کوئی شخص بُرائی کا خیال آتے ہی برائی کرنے نکل جاتا ہے تو کوئی ہزاروں دفعہ خیال آنے پر بھی غلط کام نہیں کرتا، سب اُسی چِپ میں بھری گئی خصوصیات کے مطابق ہوتا ہے.

چنا چہ کوئی بھی سوچ، خیال، کوئی بات ذہن میں آجانے پر کس طرح ردعمل کرنا ہے یہ ٪80 انسان کے اختیار میں ہے ہی نہیں، وہ اُسی طرح کرے گا جیسے پیچھے سے معلومات بھر کر بھیجی گئیں تھی. تو رہ گیا باقی کا 20 فی صد، مطلب انسان نے اپنے معاشرے سے جو سیکھا 20 فی صد اُسی کے مطابق ردعمل کرے گا.

لیکن رُکیے، کیا انسان جِس گھر میں، جِس شہر میں، جِس طرح کے محلے میں پیدا ہوتا ہے وہ اُسکے اختیار میں ہے؟ کیا اُس کے بہن بھائی، اُسکے رشتہ دار کس طرح کے ہوں گے اُسکے بَس میں ہے؟ کیا وہ کس سکول جاتا ہے اُسکے بَس میں ہے؟ ہاں دوست بنانا تو کچھ حد تک اختیار میں ہے لیکن دوستوں سے وہ محض کوئی ٪5 سیکھتا ہو گا. چنانچہ ٪95 انسان کی ذات یا تو اُس چِپ کے مطابق ہوتی ہے یا گھر جِس میں پیدا ہوا یا بہن بھائی یا ماں باپ یا رشتہ دار یا سکول یا اساتذہ یا پھر یوں کہ اُس معاشرہ مطابق ہوتی ہے جہاں وہ جنم لیتا ہے.

تو یہ زندگی کیا ہے، کچھ معنوں میں صرف ٪5 ہمارے مطابق اور کچھ معنوں میں یہ ٪5 بھی نہیں ہوتا کیونکہ وہ دوست بھی تو اُسکے معاشرے کے ہی ہوتے ہیں، کبھی سُنا ہے کہ اِک لڑکا آ اِدھر فیصل آباد میں پیدا ہوا اور اُسکا پہلا دوست روس میں رہتا تھا؟ نہیں ایسے نہیں ہوتا.

تو کیا یہ کہنا ٹھیک نہیں ہو گا کہ زندگی اک فلم کی مانند ہے جس کی کہانی لکھ دی گئی ہے اور وہ کہانی ہمارے ہاتھوں پر چھپی ہوئی ہے، ہم صرف اپنے اپنے کردار نبھا رہیں؟ تو پھر جزا اور سزا کس چیز پر ملے گی؟ اس ٪5 پر؟ وہ بھی جو اک طرح سے نہیں بنتا یا پورا 100 فی صد ہی ہمارے اختیار میں ہے؟ یا پھر ایسے ہو سکتا ہے کہ ہم اک کورے کاغذ کی طرح اس دنیا میں بھیجے جاتے ہیں اور خود سوچتے ہیں کہ میں سخی بنوں یا بخیل، میں رحم دل بنوں کہ نا بنوں، ساری ذات ہمارے خود پے انحصار کرتی ہے جس طرح چاہیں بنا لیں خود کو.

یہ سارا سوال کا پسِ منظر تھا، اور سوال یہ ہے کہ جزا اور سزا، جنت اور دوزخ کن بنیادوں پر ملیں گی؟ مسلمان ہونے کے ناطے الحمد للہ میرا ایمان روزِ آخرت پے ہے، لیکن منطق سمجھنی ہے اس سب کی. سوال کیوں نہیں ہے، سوال کیسے ہے اور میں کہتا ہوں اگر مجھے مرنے سے پہلے بھی اس سوال کا جواب مل جاتا ہے جو واقعی مجھے مطمئن کرے تو میں سمجھوں گا بہت کچھ حاصل کر لیا اپنے ہونے سے. اگر آپ اس معاملے میں کچھ کر سکیں تو دل سے شکر گزار رہوں گا. شکریہ

سلمان احمد بھٹہ ٦ جولائی ٢٠٢٠




 
 
 

Recent Posts

See All
انتظار

انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد تقریباً ہر پاکستانی طالب علم کی طرح مجھے بھی کچھ اندازہ نہ تھا کہ زندگی میں کیا کرنا ہے، کس شعبے میں...

 
 
 
یاد

بہت دن بیت گئے … اُس کو دیکھے ہوے، اُن گلیوں میں گئے ہوے، اُن رستوں پر چلے ہوئے، وہ حسین مکان جس کو دیکھ دیکھ کر گزار دیا لڑکپن ہم نے، ...

 
 
 
اک تلخ حقیقت

کی تمہیں کبھی ایسا محسوس ہوا کہ تمہاری زندگی کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے. اور تم صرف کٹ پتلی کا تماشا بنے ہوئے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ...

 
 
 

Comments


  • alt.text.label.Instagram
  • alt.text.label.LinkedIn
  • alt.text.label.Facebook
  • alt.text.label.Twitter
  • alt.text.label.YouTube

©2023 Salman Ahmad Bhutta

bottom of page