بٹوے میں لگی تصویر
- Salman Bhutta
- Nov 5, 2023
- 2 min read
بھارتی اور پاکستانی فلموں میں ہم اس عمل کو کئ دہائیوں سے دیکھتے آئے ہیں، کبھی کبھار ڈراموں میں بھی دیکھنے کو ملا… اور پھر کرداروں سے متاثر ہونے والے اشخاص نے اس عمل کو اپنا لیا.
آج کے اس زمانے میں آپ کی جیب میں ستر ہزار روپے کا موبائل اور بیگ میں ایک لاکھ مالیت سے زیادہ کی لیپ ٹاپ نامی کتاب موجود ہونے کے باوجود بھی جب کسی دوکان میں بٹوہ نکالا جاتا ہے تو یہ کسی عزیز کی تصویر سے مزین ملتا ہے.
اب آپ کہیں گی کہ بھئ میں بھی بٹوہ رکھتا ہوں مگر میں نے تو کبھی ایس اوچھی حرکت نہیں کی اور نہ ہی کرنے کے بارے میں سوچا ہے؟
تو سنئے آج کے جدید انسان، یہ عمل آپ جیسے بے زوق لوگوں کا ہو بھی نہیں سکتا،آپ تو سال میں مشکل سے ایک عدد فیس بک پوسٹ کر کے کسی اپنے کو بہلا دیتے ہوں گے، چاہے وہ سالگرہ کی مبارکباد ہو یا Mother’s Day/Father’s Day جیسے بی معانی تہوار.
مگر ادھر معاملہ مختلف ہے..
اب بات ہو جائے اُن کی کہ جن کے دل کی جگہ واقعی میں دل ہے، وہ لوگ کی جن میں دوسروں سے محبت کا جذبہ آج بھی زندہ ہے، وہی لوگ کہ جنہیں آج کے ماڈرن انسان تنزلی پسند کہ کر پکارتے ہیں. اور پھر انہیں لوگوں کے بٹوے میں سے اک عدد تصویر ملتی ہے. وہ محض تصویر نہیں ہوتی، بے شمار داستانیں سمائی ہوتی ہیں اُس کاغذ کے ٹکڑے میں. وہ داستانیں کہ جن کو بیان کرنے سے قاصر ہوتی ہے اُنکی زبان. یہ داستانیں کبھی کبھار خوشی کے لمحات سے بھر پور ہوتی ہیں تو کبھی ہزاروں غموں کا مجموعہ ہوتا ہے ان میں. کوئی شخص اس تصویر کو دیکھ کر تروتازہ ہو جاتا ہے تو کسی کو وہ سارے ان کہے الفاظ پھر سے یاد آجاتے ہیں. اور پھر اتنی دیر میں سب کچھ جھٹک کر بٹوہ بند کر دیا جاتا ہے…!!!
بس جی اپنے اس بے معنی سے الفاظ کے مجموعے کے اختتام پر یہی کہوں گا کہ ایک دفعہ صرف ایک دفعہ اس کام کو کر کے تو دیکھئے. نہ اچھا لگے تو بے شک نکال دینا وہ تصویر. اور اگر زندگی کسی ایسے شخص سے آپکا سامنا کرا دے تو اُس کو کبھی جانے مت دینا. اگر وہ چلا گیا تو اُسے کھونے کا پچھتاوا زندگی بھر نہیں جائے گا!!
سلمان احمد بھٹہ ١٤ جولائی ٢٠١٨
Comments