بے حیائی
- Salman Bhutta
- Nov 5, 2023
- 3 min read
موضوع پر نظر ڈالتے ساتھ ہی تقریباً تمام مرد حضرات کے ذہن میں سب سے پہلے اک عورت آئی ہوگی اور پھر اُس کا غیر مناسب لباس، باقی خواتین کے دماغ میں کیا چلا ہو گا اس سے تقریباً میں نا واقف ہی سمجھوں گا خود کو. بے حیائی کو محض اک gender سے یا اک عمل سے منسلک کر دینا سراسر جہالت ہے، ہاں یہ اک پہلو ضرور ہے مگر مکمل یہی نہیں ہے.
ہمیشہ کی طرح میں واضح کر دوں کہ نہ میں بے حد پارسا ہوں نہ میں آبِ زم زم سے نہایا ہوا ہوں، میں تو خود انتہائی گنہگار بشر ہوں. یہی وجہ ہے کہ میں صرف اپنے نظریات پیش کر رہا ہوں، ان پے عمل کی تلقین تب کروں گا جب پہلے با عمل بنوں گا.
پہلے بات کر لیں اس زمانے کے مرد حضرات کی، جو نا جانے اپنے آپ کو کیا چیز سمجھتے ہیں. غیر محرم کو دیکھنا، اِن کے بارے میں تبصرے کرنا، ان سے ناجائز تعلقات قائم کرنا، غیر مہذب گفتگو کرنا، اپنے بڑوں سے ناشائستہ لہجے میں بات کرنا، جسمانی عضو کو واضح کرتا لباس پہننا اور نہ جانے کیا کیا… یہ سب مردوں کی حیا ختم ہو جانے کے اثرات ہیں.
مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اپنی حدود کا عِلم ہونا چاہے، ارشاد ہوتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ، نا محرم کو دیکھنے والوں کی آنکھوں میں قیامت کے روز کانچ کے ٹکڑے گُھسائے جائیں گے. آپ اندازہ لگا سکتے ہیں صرف دیکھنے کی یہ سزا ہے باقی اعمال کی سزا کس قدر ہو گی. یہ موٹر سائیکل چلاتے وقت آنکھ میں مچھر چلا جائے تو حالت خراب ہو جاتی ہے، تو سوچیں کانچ کے ٹکڑے… استغفراللہ
اسلام میں تو مردوں کو نظریں جھکا کر چلنے کا حکم ہے، کھلا لباس پہننے کا حکم ہے، سر پر ہو وقت کپڑا رکھنے کا حکم ہے. لیکن بے حیائی آج کل کے زمانے کا تقاضا بن چکی ہے. نئی نسل کا یہ بھی ماننا ہے جب تک آپ opposite gender سے پُر اعتماد انداز میں، سینا تان کر بات کرنا نہیں سیکھیں گے آپ ناکام ہیں؛ پھر کچھ لوگ کہتے ہیں مُلک تباہ ہو رہا ہے، کرپشن عروج پر ہے، حلال اور حرام کی تمیز ختم ہو چکی ہے، وہ ذیادہ بڑی اور بُری برائیاں ہیں. پہلے اُن کو ہل کیا جائے یہ کوئی بڑا گناہ نہیں ہے.
اِن حضرات سے میری گزارش ہے کہ جنگِ اُحد، ہجرتِ مدینہ اور شعب ابی طالب جیسی مشکلات میں بھی، عرب کے جاہل معاشرے میں اگر بے حیائی نہیں ہونے پائی تو آج کل کیوں؟ باقی جو چیز ناجائز ہے وہ ہر حال میں ناجائز ہے اور اگر کسی نے مردوں کی حیا جاننی ہو تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سیرت پڑھ لیں. آنکھیں کُھل جائیں گی.
چنانچہ اب بات کر لیں عورت ذات کی، اِن کے لئے تو اور بھی زیادہ سخت احکامات ہیں، ارشاد ہوتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ، ہاتھ، چہرہ، آنکھیں تو دور کی بات، عورت کے اک بال پر بھی کسی غیر محرم کر نظر نہیں پڑنی چاہیے. لیکن جی یہاں تو حال یہ ہے کہ اسلام کو اپنی ضرورت کے مطابق ڈھال لیا گیا ہے، احکامات کو پچھلے زمانے کا سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، خواتین کا مردوں کے ہمراہ پڑھنا اور نوکری کرنا تو جیسے گناہ رہا ہی نہیں، ہمیں لگتا ہے جب تک عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ بازاروں میں نہیں ہوں گی ہم ترقی کر ہی نہیں سکتے.
جو چیز غلط قرار دے دی گئی وہ تب بھی غلط تھی، آج بھی غلط ہے اور قیامت تک صحیح نہیں ہو سکتی. ہاں جن معاملات میں کچھ ترمیم یا گنجائش بنتی تھی اُسکا ذکر بھی اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرما دیا تھا.
مرد کی جان بوجھ کر اٹھتی نظر سے لے کر زنا کرنے تک اور عورت کے اک بال پے نظر پڑنے سے لے کر برہنہ جسم پے نظر پڑنے تک کا سفر کئی مراحل سے گزرتا ہے اور اسکے آغاز سے اختتام تک ہر مرحلہ ناجائز ہے،غلط ہے، حرام ہے.
اختتامی الفاظ میں بس یہی کہوں گا، سب سے پہلے غلطی کو غلطی اور غلط چیز کو غلط چیز تسلیم کریں، پھر اپنے آپ کو ان سب سے پاک کرنا چاہیے اور یہ سب ہو جانے کے بعد دوسری کو بھی ضرور تلقین کرنی چاہیے . آپ کو لگتا ہو گا کہ میری اک سوچ کے درست ہو جانے سے یا میرے اعمال کے ٹھیک ہو جانے سے بھلا زمانے کو کیا فرق پڑے گا. تو جناب یومِ آخرت سب سے پہلے جواب دہ آپ نے آپنی ذات کے بارے میں ہی ہونا ہے. اور پتا ہے؟ ساتوں کائنات کا خالق ہر اک بشر سے اُسکی سوچ سے بھی بڑھ کر پیار کرتا ہے… اُسے خفا مت کیجئے گا!!
سلمان احمد بھٹہ ١١ جولائی ٢٠١٩
Comments