سمجھوتہ
- Salman Bhutta
- Nov 5, 2023
- 2 min read
تقریباً سات ارب لوگ زندہ ہیں، اربوں لوگ پیدا ہو کر انتقال بھی کر گئے اور مزید نا جانے کتنے اربوں لوگوں نےآنا اور چلے بھے جانا اس عالمِ نا پائیدار سے اس تعداد میں ہونے کے باوجود بھی یہ سب اک دوسرے سے مختلف ہیں. سب کے سب منفرد ہیں ان میں سے کوئی ایک شخص بھی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ فلاں شخص سو فی صد میرے جیسا ہے. یہ بھی اُس ذات کے کمالات میں سے ایک کمال ہے، اگر سوچا جائے، وگرنہ ہم ہیں کہ جب سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں، کوئی ایک بھی مکمل طور پر دوسرے جیسا نہیں ہے تو کیسے دنیا چل رہی ہے، یہ اولاد کے ساتھ والدین، میاں کے ساتھ بیوی، بھائی کے ساتھ بہن اور باقی تمام رشتے کیسے قائم ہیں. چلو ان سب میں تو خونی یا کوئی قانونی رشتہ قائم ہے جس کی وجہ سے ساتھ رہنا پڑ جاتا ہے، کبھی سوچا کہ اتنے مختلف ہونے کے باوجود دوستیاں کیسے قائم ہیں؟ دو انجانے لوگ ملتے ہیں اور پھر نسلیں گزر جاتی ہیں مگر وہ دوستی قائم رہتی ہے…
تو جی “یہ سب سمجھوتے کی داستان ہے”
جیسے موٹر بائیک چلاتے ہوئے ہم مکمل ہوش و حواس میں نہ ہوتے ہوئے بھی ٹھیک چلا لیتے ہیں، اسی طرح ہم بغیر ہوش و حواس کہ یہ سمجھوتہ کر رہے ہوتے ہیں اور ہمیں پتا بھی نہیں ہوتا سمجھوتہ…. کس چیز پر…..
ہر انسان کسی ایک نیٹ ورک کے پیکیج کی طرح ہے، جس طرح ہم کوئی پیکیج لگاتے ہیں، اس میں اتنے منٹ ہوتے ہیں، اتنے میسج ہوتے ہیں، اتنا انٹرنیٹ ہوتا ویسے انسان بھی ہے. ہر انسان ایک منفرد پیکیج ہے، کسی میں حُسن زیادہ ملے گا، تو کسی میں صلہ رحمی، کوئی باحیا ہوگا تو کسی میں عدل ملے گا. اسکے ساتھ ساتھ کوئی کینہ رکھتا ہوگا یا کوئی جھوٹ زیادہ بولتا ہوگا، کسی میں غصہ زیادہ ہوگا تو کوئی بدتمیز ہوگا. ہمیں بس یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے سامنے جو پیکیج ہے اس میں ہم کسی چیز پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں اور کس پے نہیں. اگر ایسی چیزیں جن پر سمجھوتہ نہ ہو سکے زیادہ ہوں تو وہ آگے نہیں بڑھ سکتے لیکن اگر معاملہ اسکے برعکس ہو تو پھر دنیا اس رشتے کو یاد رکھتی ہے.
اگر آپکو کسی شخص میں اسکی اچھائیوں سے زیادہ برائیاں دِکھ رہی ہیں، تو محض اس سے دور ہو جاو، نفرت پیدا کر کے کوئی فائدہ نہیں اور اگر معاملہ اسکے متضاد ہے تو آپ خود کافی سمجھدار ہیں.
سلمان احمد بھٹہ ٨ اکتوبر ٢٠١٩
Comments