محبت یا روح کی پالیدگی؟
- Salman Bhutta
- Nov 5, 2023
- 4 min read
میرا اک دوست ہے جو مجھ سے اکثر عجیب طرح کے سوال کرتا رہتا ہے اور میں کئی حد تک اسکو مطمئن بھی کرتا رہا ہوں مگر کچھ عرصہ پہلے اُس نے اک سوال کیا، پھر یہ بھی بتایا کہ بڑے بڑے ادیب جیسے کہ اشفاق احمد اور واصف علی واصف صاحب کی بے شمار تحاریر پڑھنے کے بعد بھی اُسے اپنا جواب نہیں مل پایا.
اب میں، اس کشمکش میں مبتلا ہو گیا کہ اتنے عظیم لوگ اگر اِسکے سوال کا جواب نہیں دے پائے تو میں کس کھیت کی مولی ہوں؟ میں تو وہ ہوں کہ نماز کی نیت کرتا ہوں، اور جب سلام پھیرتا ہوں تو آدھی کائنات گھومی ہوتی ہے.
تو سوال یہ تھا کہ “محبت آخر ہے کیا؟ اس کی تعرف کیا ہے؟ محبت کہتے کس کو ہیں؟”
اوپر بیان کئے گئے خیالات کے ذہن میں ہوتے ہوئے اور اپنے آپ کو کم سے بھی کم تر سمجھتے ہوئے، میں اُسکے سامنے لاجواب ہو گیا اور دو تین الٹی سیدھی تعریفیں دینے کے بعد خاموش ہونے اور موضوع بدلنے میں ہی اکتفا سمجھا. وہ رات کے وقت چلتے موٹر سائیکل پر کیا گیا اُسکا سوال اور یہ مارگلہ کے پہاڑوں کا منظر نگاہوں میں لئے، لکھتا ہوا ‘جواب’. نیازی خیلوی نے خدا کے بارے میں سہی کہا کہ
“تم اک گورکھ دھندہ ہو”
لفظ ‘جواب’ اس لئے استعمال کر رہا ہوں کیونکہ اُسکا مقصد اس موضوع پے میرا نقطہ نظر جاننا تھا، ورنہ میں کون ہوتا ہوں اس پاکیزہ چیز کی منجمد تعریف کرنے والا.
چنانچہ پہلے ذکر کر لیں کہ آجکل کے زمانے میں لوگوں نے محبت کو سمجھ کیا رکھا ہے. محبت، پیار، عشق، love، اور پتا نہیں کیا کیا، ان سب کو جب خدا رب العزت کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تب نہایت پاک چیزیں بن جاتی ہیں تب ان کے الگ الگ درجات بن جاتے ہیں اور انہیں درجات کو عبور کرنے پر اللہ رب العزت کی ذات ملتی ہے، مگر جب انہی اسماء کو دنیا میں کسی شخص یا چیز کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تو مطلب کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے.
روزانہ ہمیں سننے کو ملتا ہے –مجھے اُس لڑکی/لڑکے سے پیار ہو گیا ہے -میری بیوی میری پہلی محبت ہے -مجھے اپنے بیٹے /بیٹی سے بہت الفت ہے… وغیرہ وغیرہ
ان تحاریر میں کوئی فرق نہیں ہے، سب اک ہی نقطہ میں اکٹھی ہوتی ہیں جیسے بابا بلھے شاہ فرماتے ہیں “اک نقطہ وچ گل مکدی اے”. اسی طرح یہ بظاہر منفرد دکھنے والی تحریروں کا مطلب اک ہی اور وہ یہ ہے کہ ‘یہ سب کہنے والوں کی روح بیمار ہو چکی ہے یا صاف لفظوں میں کہوں تو پلید ہو چکی ہے’.
جیسے موسیقی پلید ارواح کی غذا ہے ویسے ہی دنیا کی کسی بھی چیز سے محبت، الفت یا جو بھی نام دے لو، یہ روح کے پلید ہو جانے کی نشانی ہے. میں یہ ہرگز نہیں کہ رہا کے میں متقی ہوں، پرہیزگار ہوں، یا موسیقی کبھی نہیں سنی. اور نہ ہی میں یہ کہ رہا ہوں کہ آپ کو یہ کرنا چاہیے وہ نہیں کرنا چاہیے وغیرہ وغیرہ. میں تو محض اِدھر اُدھر کی باتیں سُن کے اور خدا کی طرف سے ذہن میں آئے خیالات کو صفحے کے حوالے کر رہا ہوں، ویسے بھی میں ہوتا کون ہوں کسی کو تلقین کرنے والا، مجھ جیسا گناہ گار اپنی آخرت سنوار لے وہی بہت ہے.
چنانچہ بات ہو رہی تھی محبت کیا نہیں ہے، آپ، میں، ہم سب جو کر رہے ہیں غلط ہے اور غلط العام ہے. بے شمار لوگوں کا غلط کام کرنا اسے درست نہیں بنا دیتا، سب سے پہلی بات غیر محرم کا خیال یا اس سے تعلق ہونا تو ہے ہی غلاظت، خیال رکھیے گا اِسکو محبت کہنا کہیں آپکو گناہ گار نا بنا دے. پھر بات کی جائے والدین، دوستوں، اولاد یا دنیاوی کسی بھی چیز کی، تو سُنیے ‘اگر آپ خدا کے علاوہ کسی بھی شے ک دل میں جگہ دیتے ہیں اور مقام خدا سے بلند کر دیتے ہیں تب بھی آپ غلط راہ پے ہیں، یہاں تک کہ ماں کا اپنی اولاد سے لگاؤ اگر خدا کی محبت سے بڑھ جائے تب بھی وہ غلط ہے.
آپ نے پتا نہیں غور کیا ہے کہ نہیں، میں خدا تعالیٰ کے علاوہ کسی بھی شخص/چیز سے تعلق کو محبت کے ساتھ بیان نہیں کر رہا کیونکہ اُس رب کی ہم سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم محبت محض اُسی سے کریں، باقی یہ جو دنیا میں جذبات لئے بیٹھے ہیں ان کو کوئی اور نام دے لیں، جیسے کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں… ‘خدا کے علاوہ کسی بھی شے سے محبت آپکی روح کے پلید ہو جانے کی نشانی ہے’.
اب بات ہو جائے محبت ہے کیا. وہ کلام ہے نا “جس دم غافل اُس دم کافر”… بس بات اتنی سی ہے، آپ پے وہ کیفیت طاری ہو جائے کہ آنکھیں بند کرنے پے رب العزت کی انوار و تجلیات کا ظہور ہو اور کھولنے پر پہلا خیال ہی اپنے پروردگار کا آئے. محبت تو وہ ہے کہ انسان نماز ادا کرنے کے لئے حقیقی معنوں میں تڑپ رہا ہو کہ یہی تو وقت ہوتا اپنے محبوب سے ملاقات کا. یہ اس قدر پاک ہے کہ واصف علی واصف صاحب کہتے ہیں
“محبت واحد چیز ہے جو اس کائنات سے باہر کی ہے”
اور جانتے ہو عبادت کیا ہے؟ محبت کی انتہا عبادت ہے، کہ عاشق اس قدر اپنے آپ کو محبوب کے لئے فنا کر دے کہ سجدہ کرنے کا مقام آجائے، محبت کے بغیر عبادت ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم. ہاں محبت کے بغیر بھی عبادت قبول تو ہو جاتی ہے مگر ایسی عبادت اشرف المخلوقات کو ذیب نہیں دیتی.
اب اس بات کو اختتام کی طرف لے جانے کی کوشش کروں گا کہ ہر کام کیا جائے، پڑھا جائے، شادی کی جائے، بچوں سے شفقت سے پیش آیا جائے، جو جو اعمال اسلام نے جائز قرار دیے سب کئے جائیں مگر ان کے ساتھ ساتھ اُس خالقِ قُل کو بھی یاد رکھا جائے. وہ تم سے اس قدر محبت کرتا ہے کہ تم اس کا تصور کرنے سے بھی قاصر ہو، سب چیزوں سے پردے تب اٹھیں گے جب تم اپنی دو آنکھیں ہمیشہ کے لئے موند لو گے. تب پتا لگے گا کہ وہ وہ ربِ کریم کس قدر حسین جنتیں سجائے بیٹھا ہے.
اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہر انسان، ہر اک انسان اس قابل پیدا ہوا ہے کہ اپنے پروردگار کی یاد لیے زندگی کا ہر عمل سر انجام دے سکے. بس آخری گزارش تھی کہ باقی کچھ کریں یا نہ کریں بس اپنی روح کی پالیدگی کو نہایت پاکیزہ نام دینا بند کر دیں.
سلمان احمد بھٹہ ٢٦ فروری ٢٠١٩
Comments