میں ہوں منٹو
- Salman Bhutta
- Nov 5, 2023
- 2 min read
چند ایک لوگ جن سے میں اس ناتواں سی زندگی میں متاثر ہوا ہوں، اُن میں سے کچھ رشتہ دار ہیں اور باقی سب سے میرا خون کا تو کوئی رشتہ نہیں مگر روحانی طور پر انہیں میں اپنے کافی قریب سمجھتا ہوں. انہی کچھ گنتی کے لوگوں میں سے ایک سعادت حسن منٹو صاحب ہیں، نہ تو میں اِن سے حقیقت میں ملا ہوں اور نہ ہی اِن کی بے شمار کُتب پڑھ رکھی ہیں مگر پھر بھی میں انہیں اپنا استاد محترم سمجھتا ہوں. روحانی استاد، جن سے میں نے اتنا کچھ سیکھا کہ بیان کرنے س قاصر ہوں مزید برآں اِن کے الفاظ، زندگی گزارنے کا طریقہ، سوچنے کا طریقہ میری شخصیت کے ہر پہلو میں آپ کو واضح نظر آئے گا.
سب سے اہم چیز جو میں نے اِن سے سیکھی وہ تھی بے خوف ہو کر جینا، بے باک زندگی بسر کرنا، زمانے کی پرواہ کئے بغیر جو خود کو سہی لگے وہی عمل کرنا اور اسی کے ساتھ دوسری چیز حق پر ڈٹ جانا ہے، انہوں نے تو اپنی پوری زندگی گزار دی لیکن حقیقت کے علاوہ کسی چیز کے بارے میں بات نہیں کی، مگر میری ان سے شناسائی یہی کوئی 2 سال پہلے ہوئی تھی. تب سے لیکر آج تک میں نہ حق کے لئے آواز اٹھاتے ہوئے ڈرا ہوں اور نہ کبھی خوف آیا دل میں.
یہ میں اپنی صفات بیان نہیں کر رہا، میں تو محض زندہ جاویدہ مثال سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ میں آپکے سامنے ہوں انکا ادنا سا شاگرد. اگر اس قدر ادنا شاگرد کی شخصیت اتنی بے باک ہو سکتی ہے تو اُن کی شخصیت کا کیا مقام ہوگا. اُن کے الفاظ کا اثر کس قدر دیر پا رہتا ہو گا اور اُن کی موجودگی کا اثر کس قدر جامد ہو گا.
وہ کہتے تھے نا، “اگر آپ میرے افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب ہےکہ زمانہ ہی ناقابل برداشت ہے” اور بلکل سہی کہتے تھے زمانے کے شعراء نے، افسانہ نگاروں، مصنفین نے اک ایسا منظر پیش کر رکھا تھا کہ لوگوں کو حقیقت سے دور کر دیا تھا، زمانے کی تلخ حقیقتوں پر حسین سا پردہ ڈال رکھا تھا اور لوگوں کو لگنے لگ گیا تھا کہ یہ حقیقت میں بھی سب سہانا اور دلکش ہے لیکن آپ نے زمانے کے تمام اُن پہلوؤں پر بات کرنے کی جرات دکھائی جن کے بارے میں سننے سے بھی لوگ ہچکچاتے تھے پھر چاہے وہ جنسی تعلق ہوں یا شہوانیت ہو یا ہیرہ منڈی ہو یا پھر ہم جنس پرستی. اُردو ادب میں اس طرح کے ہر ایک موضوع پر کھل کر اپنا قلم استعمال کرنے کی جسارت محض آپ ہی نے کی ہے.
تاہم آج ١١ مئی کو ان کے ١٠٨ ویں سالگرہ کے موقع پر اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ان کے درجات بلند فرمائے اور اگر کوئی ان سے خطا سرزد ہو گئی ہو تو اسے بھی معاف کر دے( آمین). بس بات کو منٹو صاحب کے الفاظ سے ہی ختم کرنا چاہوں گا، وہ کہتے ہیں، “ہم اکٹھے پیدا ہوئے اور خیال ہے اکٹھے ہی مر جائیں گے لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سعادت حسن مر جائے اور منٹو نہ مرے”.
سلمان احمد بھٹہ ١١ مئی ٢٠٢٠
Comments